مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یحییٰ سریع نے بتایا کہ ان میں 5 آئل ٹینکرز بحیرۂ احمر جبکہ 3 خلیج عدن اور بحیرۂ عرب میں نشانہ بنائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ مزید 48 سعودی آئل ٹینکرز کو گزرنے سے روکا گیا اور انہیں واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔
یمنی ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے صنعا ایئرپورٹ اور حدیدہ بندرگاہ پر حملوں کے جواب میں یمنی فورسز نے 9 فوجی کارروائیاں کیں، جن میں ینبع، نجران، جیزان، ابہا اور سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں تیل کی سپلائی لائنوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ سعودی فوجی مراکز اور کمک پہنچانے والے راستوں کے خلاف 14 کارروائیاں کی گئیں، جن میں الرویک، العبر، الودیعہ، مأرب اور المخا کے علاقوں میں سعودی فوجی اجتماعات اور فوجی کمک لے جانے والے بحری جہازوں اور کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یحییٰ سریع کے مطابق ان کارروائیوں میں سعودی افواج کے متعدد اہلکار، جن میں افسران اور کمانڈر بھی شامل تھے، ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ متعدد فوجی تنصیبات، اسلحہ ڈپو اور فوجی سازوسامان تباہ کیا گیا۔
یمنی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ المخا کے قریب سعودی اسلحہ اور فوجی کمک لے جانے والے دو فوجی جہاز ڈبو دیے گئے یا آگ لگا دی گئی، جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد کے متعدد جنگی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یحییٰ سریع نے ریاض کو کشیدگی میں کسی بھی اضافے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی وسیع پیمانے پر کارروائی کا جواب بھی وسیع پیمانے پر دیا جائے گا۔
انہوں نے سعودی حکومت سے محاصرہ ختم کرنے، طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد، یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے اور یمنی عوام کے حقوق و وسائل بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
آپ کا تبصرہ